تھی نیند میری مگر اس میں خواب اس کا تھا
تھی نیند میری مگر اس میں خواب اس کا تھابدن مرا تھا بدن میں عذاب اس کا تھا سفینے چند خوشی کے ضرور اپنے تھےمگر وہ سیل غم بے حساب اس کا تھا دئیے بجھے تو ہوا کو کیا گیا بد نامقصور ہم نے کیا احتساب اس کا تھا یہ کس حساب سے کی تو […]
تھی نیند میری مگر اس میں خواب اس کا تھا Read More »