MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

تھی نیند میری مگر اس میں خواب اس کا تھا

تھی نیند میری مگر اس میں خواب اس کا تھابدن مرا تھا بدن میں عذاب اس کا تھا سفینے چند خوشی کے ضرور اپنے تھےمگر وہ سیل غم بے حساب اس کا تھا دئیے بجھے تو ہوا کو کیا گیا بد نامقصور ہم نے کیا احتساب اس کا تھا یہ کس حساب سے کی تو […]

تھی نیند میری مگر اس میں خواب اس کا تھا Read More »

سحر نے آ کر مجھے سلایا تو میں نے جانا

سحر نے آ کر مجھے سلایا تو میں نے جاناپھر ایک سپنا مجھے دکھایا تو میں نے جانا بجز ہوا اب رکے گا کوئی نہ پاس میرےاندھیری شب میں دیا بجھایا تو میں نے جانا گیا یہ کہہ کر کہ ایک شب کی ہے بات ساریمگر وہ جب لوٹ کر نہ آیا تو میں نے

سحر نے آ کر مجھے سلایا تو میں نے جانا Read More »

منظر تھا راکھ اور طبیعت اداس تھی

منظر تھا راکھ اور طبیعت اداس تھیہر چند تیری یاد مرے آس پاس تھی میلوں تھی اک جھلستی ہوئی دوپہر کی قاشسینے میں بند سینکڑوں صدیوں کی پیاس تھی اٹھے نہا کے شعلوں میں اپنے تو یہ کھلاسارے جہاں میں پھیلی ہوئی تیری باس تھی کیسے کہوں کہ میں نے کہاں کا سفر کیاآکاش بے

منظر تھا راکھ اور طبیعت اداس تھی Read More »

ترا ہی روپ نظر آئے جا بجا مجھ کو

ترا ہی روپ نظر آئے جا بجا مجھ کوجو ہو سکے یہ تماشا نہ تو دکھا مجھ کو کبھی تو کوئی فلک سے اتر کے پاس آئےکبھی تو ڈسنے سے باز آئے فاصلہ مجھ کو تلاش کرتے ہو پھولوں میں کیسے پاگل ہواڑا کے لے بھی گئی صبح کی ہوا مجھ کو کسے خبر کہ

ترا ہی روپ نظر آئے جا بجا مجھ کو Read More »

تمہیں خبر بھی نہ ملی اور ہم شکستہ حال

تمہیں خبر بھی نہ ملی اور ہم شکستہ حالتمہارے قدموں کی آندھی میں ہو گئے پامال ترے بدن کی مہک نے سلا دیا تھا مگرہوا کا اندھا مسافر چلا انوکھی چال وہ ایک نور کا سیلاب تھا کہ اسی کا سفروہ ایک نقطۂ موہوم تھا کہ یہ بد حال عجیب رنگ میں وارد ہوئی خزاں

تمہیں خبر بھی نہ ملی اور ہم شکستہ حال Read More »

عمر کی اس ناؤ کا چلنا بھی کیا رکنا بھی کیا

عمر کی اس ناؤ کا چلنا بھی کیا رکنا بھی کیاکرمک شب ہوں مرا جلنا بھی کیا بجھنا بھی کیا اک نظر اس چشم تر کا میری جانب دیکھناآبشار نور کا پھر خاک پر گرنا بھی کیا زخم کا لگنا ہمیں درکار تھا سو اس کے بعدزخم کا رسنا بھی کیا اور زخم کا بھرنا

عمر کی اس ناؤ کا چلنا بھی کیا رکنا بھی کیا Read More »

وہ دن گئے کہ چھپ کے سر بام آئیں گے

وہ دن گئے کہ چھپ کے سر بام آئیں گےآنا ہوا تو اب وہ سر عام آئیں گے سوچا نہ تھا کہ ابر سیہ پوش سے کبھیکوندے تیرے بدن کے مرے نام آئیں گے اس نخل نا مراد سے جو پات جھڑ گئےاندھی خنک ہواؤں کے اب کام آئیں گے آنسو ستارے اوس کے دانے

وہ دن گئے کہ چھپ کے سر بام آئیں گے Read More »

ذہن رسا کی گرہیں مگر کھولنے لگے

ذہن رسا کی گرہیں مگر کھولنے لگےپھر یوں ہوا کہ لوگ ہمیں تولنے لگے آہستہ بات کر کہ ہوا تیز ہے بہتایسا نہ ہو کہ سارا نگر بولنے لگے عمر رواں کو پار کیا تم نے اور ہمرسی کے پل پہ پاؤں رکھا ڈولنے لگے دستک ہوا ہی دے کہ یہ بندش تمام ہوسونے گھروں

ذہن رسا کی گرہیں مگر کھولنے لگے Read More »

چراغ باقی رہا نہ اب آئنہ رہے گا 

چراغ باقی رہا نہ اب آئنہ رہے گا مگر شگفتِ جمال کا سلسلہ رہے گا  ہزار چوکس رہیں کڑی تیرگی کے داعی مرے تصور میں ایک روزن کھلا رہے گا  یقین آیا ہے آج الواحِ سنگ پڑھ کر کہ اس نگر میں بس ایک نامِ خدا رہے گا  یہی رہے گا اگر مری بے کسی کا عالم دعائیں بچ

چراغ باقی رہا نہ اب آئنہ رہے گا  Read More »

نہیں آساں کسی کے واسطے تخمینہ میرا

نہیں آساں کسی کے واسطے تخمینہ میرامقرر ہے دیار غیب سے روزینہ میرا دم رخصت اگر میں حوصلے سے کام لیتاپلٹ کر دیکھ سکتا تھا اسے آئینہ میرا ہدف بن پائیں گی آنکھیں نہ میرے دشمنوں کیمقابل ہے خدنگ خواب کے اب سینہ میرا پڑا رہتا ہوں کنج عافیت میں سر چھپا کرگزر جاتا ہے

نہیں آساں کسی کے واسطے تخمینہ میرا Read More »