MOJ E SUKHAN

دیار خواب کو نکلوں گا سر اٹھا کر میں

دیار خواب کو نکلوں گا سر اٹھا کر میں
کہ شاد رہتا ہوں رنج سفر اٹھا کر میں

چراغ جل نہ سکے گا جو اس کی آنکھوں میں
دھروں گا اس کو کسی طاق پر اٹھا کر میں

سنا ہے تخت مقدر سے ہاتھ آتا ہے
خجل ہوں راحت تیغ و سپر اٹھا کر میں

چلے جو سرو و سمن میں بھی ساتھ چل دوں گا
کھڑا رہوں گا نہ بار ثمر اٹھا کر میں

ترے بہشت میں دل لگ نہیں رہا میرا
کہ ساتھ لا نہیں پایا ہوں گھر اٹھا کر میں

الجھ رہا ہو اگر غیر کی نگاہوں سے
لپیٹ لیتا ہوں تار نظر اٹھا کر میں

الگ نہیں ہوں میں اپنی طرح کے لوگوں سے
پڑا ہوں زحمت دیوار و در اٹھا کر میں

نہیں سنوں گا نصیحت کسی سیانے کی
رہوں گا تہمت نوع بشر اٹھا کر میں

یقین کیسے نہیں آئے گا انہیں مجھ پر
وفا میں فرد ہوں خوف و خطر اٹھا کر میں

کہیں وصال کی صورت اگر دکھائی دی
نکل پڑوں گا نہ شمع سحر اٹھا کر میں

کسی پری کے تصور میں چوم لیتا ہوں
کسی گلاب کو بار دگر اٹھا کر میں

بہت ہیں چاہنے والے مرے جہاں بھر میں
گرفتہ دل نہیں بار ہنر اٹھا کر میں

مکان چھوڑ تو دوں اس حسیں کے کہنے پر
گلی میں لاؤں گا کیا کیا مگر اٹھا کر میں

مجھے وہ طیش دلاتے رہے اگر ساجدؔ
تو گوندھ دوں گا یہ سارا نگر اٹھا کر میں

غلام حسین ساجد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم