MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نمود پاتے ہیں منظروں کی شکست سے فتح کے بہانے

نمود پاتے ہیں منظروں کی شکست سے فتح کے بہانے
چراغ زندہ کیا ہے میرا گلی میں دم توڑتی ہوا نے

یہ جانتے ہیں کہ سامنے ہے گریز کرتی ہوئی محبت
مگر مرے ساتھ چل رہے ہیں وہی مظاہر وہی زمانے

مسافروں کے لیے تو یکساں ہے دشت اور شہر سے گزرنا
کہ شام ہوتے ہی تان لیتے ہیں لوگ خوابوں کے شامیانے

تو کیوں یہ ساحل کی دھوپ میرے نڈھال قدموں سے آ لگی ہے
مجھے کنارے لگا دیا ہے اگر کسی شخص کی دعا نے

کسی کو اک آتش گماں نے تمام تر راکھ کر دیا ہے
کسی کو کندن بنا دیا ہے یقین کی خاک کیمیا نے

ہر آن میرے وجود میں یوں انا کی تعمیر ہو رہی ہے
کہ جیسے بھیجا گیا ہوں میں بھی زمین پر اک مکاں بنانے

مجھے یقیں ہے کہ میرے بس میں ہے منزل شوق پر اترنا
مجھے بہت حوصلہ دیا ہے مری محبت مرے خدا نے

غلام حسین ساجد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم