MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اپنے احسان کا سرطان ہوں میں

اپنے احسان کا سرطان ہوں میں
زندگی تجھ سے پشیمان ہوں میں

میں کہ سورج کی طرح چمکا تھا
اب چراغوں سے پریشان ہوں میں

کیا یہ میں تھا جو نظر آتا ہوں
آئنہ دیکھ کہ حیران ہوں میں

دل دھڑکتا ہے تو خوف آتا ہے
کیسی بستی کا نگہبان ہوں میں

کون پہچانے مجھے ارضِ وطن
ذرہ ذرہ کا ترے گیان ہوں میں

تیری مٹی کو بنا کر سونا
آج تک بے سر و سامان ہوں میں

تجھ سے منسوب بھی ہوکر اب تک
اپنے خوابوں سے پریشان ہوں میں

محمو صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم