ذکرِ بے داد کہاں کرتے ہیں
لوگ فریاد کہاں کرتے ہیں
بدگماں ہم سے نہ ہوں آپ کہ ہم
آپ کو یاد کہاں کرتے ہیں
وقفِ تزئینِ بیابان ہیں ہم
گھر کو آباد کہاں کرتے ہیں
اب بھی کچھ لوگ بحدِ امکاں
فکرِ صیاد کہاں کرتے ہیں
ہم تو جاں سے بھی گزر جائیں مگر
آپ ارشاد کہاں کرتے ہیں
جی جلایا تھا تری محفل میں
دیکھیں اب شاد کہاں کرتے ہیں
محمود صدیقی