MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جو بھی اپنوں سے الجھتا ہے وہ کر کیا لے گا

جو بھی اپنوں سے الجھتا ہے وہ کر کیا لے گا
وقت بکھری ہوئی طاقت کا اثر کیا لے گا

خار ہی خار ہیں تاحدِّ نظر دیوانے
ہے یہ دیوانہء انصاف ادھر کیا لے گا

جان پر کھیل بھی جاتا ہے سزاوار قفس
اس بھروسے میں نہ رہیئے گا یہ کر کیا لے گا

پستیء ذوقِ بلندیء نظر ، دار و رسن
ان سے تو مانگنے جاتا ہے مگر کیا لے گا

رہبرِ قوم و وطن، اس کو خدا شرمائے
خود جو بھٹکا ہو وہ اوروں کی خبر کیا لے گا

شمعِ محفل کا بقیہ ہے فروغ اُمید
شام سے جس کا یہ عالم ہو سحر کیا لے گا

باغباں کوشش بے جا پہ مگن ہے لیکن
بھنگ بوتا ہے جو گلشن میں، ثمر کیا لے گا

شاعر گوہرِ بے آب زمانہ، اے شاد
شعر فہموں سے کبھی دادِ ہنر کیا لے گا​

شاد عارفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم