MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سبھی کچھ خاک میں تحلیل ہوتا جا رہا ہے

سبھی کچھ خاک میں تحلیل ہوتا جا رہا ہے
چلو یہ شہر بھی تبدیل ہوتا جا رہا ہے

کسی کی گفتگو میں ایک وہ مفہوم ہے جو
حقائق سے الگ ترسیل ہوتا جا رہا ہے

میں کیسے ترک کر دوں اب کہ یہ کار محبت
کسی کے حکم کی تعمیل ہوتا جا رہا ہے

میں کیا ترتیب دینا چاہتا ہوں اور مجھ سے
یہ کیا ہے جو یہاں تشکیل ہوتا جا رہا ہے

نہیں کھلتا یہ کیسا خوف ہے جو لمحہ لمحہ
سبھی کے خون میں تحلیل ہوتا جا رہا ہے

قمر رضا شہزاد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم