MOJ E SUKHAN

ہمارے واسطے ہے ایک جینا اور مر جانا

ہمارے واسطے ہے ایک جینا اور مر جانا
کہ ہم نے زندگی کو جادۂ راہ سفر جانا

یکایک منزل آفات عالم سے گزر جانا
ڈریں کیوں موت سے جب ہے اسی کا نام مر جانا

تری نظروں سے گر جانا ترے دل سے اتر جانا
یہ وہ افتاد ہے جس سے بہت اچھا ہے مر جانا

جواب ابر نیساں تجھ کو ہم نے چشم تر جانا
کہ ہر اک قطرہ ٔاشک چکیدہ کو گہر جانا

تلاطم آرزو میں ہے نہ طوفاں جستجو میں ہے
جوانی کا گزر جانا ہے دریا کا اتر جانا

ہم اپنے رہزن و رہبر تھے لیکن سادہ لوحی سے
کسی کو راہزن سمجھے کسی کو راہبر جانا

میں ایسے راہ رو کی جستجو میں مر مٹا جس نے
تن خاکی کو راہ عشق میں گرد سفر جانا

لب بام آئے تم اور ان کے چہرے ہو گئے پھیکے
قمر نے تم کو خورشید اور ستاروں نے قمر جانا

نہ بھولے گا ہمیں محرومؔ صبح روز محشر تک
کسی کا موت کے آغوش میں وقت سحر جانا

تلوک چند محروم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم