عشق کے صدقے یہاں ایسے اتارے جاتے
ہم ترے شہر میں آتے ہوئے مارے جاتے
ہم نے خاطر میں کہاں لہروں کو لانا تھا یہاں
بیچ منجدھار نہ گر دور کنارے جاتے
بھول بیٹھا ہے یہ دل ہائے مراسم سارے
تو رقیبوں کے نگر کس کے سہارے جاتے
حاصلِ زیست انہیں ہم بھی سمجھتے ہمدم
قربتِ عشق اگر لمحے گزارے جاتے
حرف ہو جاتے محبت کے یہاں ہم بھی اگر
دل پہ آیت کی طرح تیرے اتارے جاتے
حاصلِ زیست انہیں کرتے تصور منصور
ان کی قربت میں اگر لمحے گزارے جاتے
منصور سحر