MOJ E SUKHAN

عشق کے صدقے یہاں ایسے اتارے جاتے

عشق کے صدقے یہاں ایسے اتارے جاتے
ہم ترے شہر میں آتے ہوئے مارے جاتے

ہم نے خاطر میں کہاں لہروں کو لانا تھا یہاں
بیچ منجدھار نہ گر دور کنارے جاتے

بھول بیٹھا ہے یہ دل ہائے مراسم سارے
تو رقیبوں کے نگر کس کے سہارے جاتے

حاصلِ زیست انہیں ہم بھی سمجھتے ہمدم
قربتِ عشق اگر لمحے گزارے جاتے

حرف ہو جاتے محبت کے یہاں ہم بھی اگر
دل پہ آیت کی طرح تیرے اتارے جاتے

حاصلِ زیست انہیں کرتے تصور منصور
ان کی قربت میں اگر لمحے گزارے جاتے

منصور سحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم