MOJ E SUKHAN

کیا کہیے روئے حسن پہ عالم نقاب کا

کیا کہیے روئے حسن پہ عالم نقاب کا
منہ پر لیا ہے مہر نے دامن سحاب کا

تصویر میں نے مانگی تھی شوخی تو دیکھیے
اک پھول اس نے بھیج دیا ہے گلاب کا

اب کیا سنائیں ٹوٹے ہوئے دل کی داستاں
آہنگ بے مزہ ہے شکستہ رباب کا

اتنے فریب کھائے ہیں دل نے کہ اب مجھے
ہوتا ہے جوئے آب پہ دھوکا سراب کا

تم چاندنی ہو پھول ہو نغمہ ہو شعر ہو
اللہ رے حسن ذوق مرے انتخاب کا

اللہ بولتے نہیں تو مسکرا ہی دو
میں کب سے منتظر ہوں تمہارے جواب کا

سب واقعات ہیں مگر اللہ رے انقلاب
آج ان پہ ہے گماں کسی رنگین خواب کا

عندلیب شادانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم