نگاہوں سے جو وہ کرتے ہیں پتھر دیکھتے ہیں
چلو یہ معجزہ اک بار مڑ کر دیکھتے ہیں
سماعت پر گراں جن کی ہے آوازِ اذاں بھی
نشے کے بل پہ خود کو وہ قلندر دیکھتے ہیں
اُٹھا کے کل پہ رکھتے ہیں شرافت کا لبادہ
جہاں زاہد کہیں پہ لقمۂ تر دیکھتے ہیں
کناروں کی عیاں گرچہ ہوئیں تھیں سازشیں سب
کٹہرے میں کھڑا پھر بھی سمندر دیکھتے ہیں
چُھپا آسیب جو اس میں ہے سب ہیں بھول جاتے
ہیں کتنے لوگ سادہ جو فقط گھر دیکھتے ہیں
ہوئی مدت جوانی کو گئے لیکن یہ سچ ہے
ابھی تک زلف کو ہوتے ہوئے سر دیکھتے ہیں
بھلا منصور ہے کس کام تیری عرق ریزی
کہ زر کے بل پہ بنتے ہم سخنور دیکھتے ہیں
منصور سحر