MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نگاہوں سے جو وہ کرتے ہیں پتھر دیکھتے ہیں

نگاہوں سے جو وہ کرتے ہیں پتھر دیکھتے ہیں
چلو یہ معجزہ اک بار مڑ کر دیکھتے ہیں

سماعت پر گراں جن کی ہے آوازِ اذاں بھی
نشے کے بل پہ خود کو وہ قلندر دیکھتے ہیں

اُٹھا کے کل پہ رکھتے ہیں شرافت کا لبادہ
جہاں زاہد کہیں پہ لقمۂ تر دیکھتے ہیں

کناروں کی عیاں گرچہ ہوئیں تھیں سازشیں سب
کٹہرے میں کھڑا پھر بھی سمندر دیکھتے ہیں

چُھپا آسیب جو اس میں ہے سب ہیں بھول جاتے
ہیں کتنے لوگ سادہ جو فقط گھر دیکھتے ہیں

ہوئی مدت جوانی کو گئے لیکن یہ سچ ہے
ابھی تک زلف کو ہوتے ہوئے سر دیکھتے ہیں

بھلا منصور ہے کس کام تیری عرق ریزی
کہ زر کے بل پہ بنتے ہم سخنور دیکھتے ہیں

منصور سحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم