MOJ E SUKHAN

جانے کیا کہہ گیا روانی میں

غزل

جانے کیا کہہ دیا روانی میں
دے گیا اشک وہ نشانی میں

اک تبسم کا آسرا تھا فقط
بہہ گیا آج وہ بھی پانی میں

سوچ منفی جو رکھتے ہیں ان کی
عمر کٹتی ہے بدگمانی میں

بے کلی میں قرار ہے مجھ کو
شاد رہتی ہوں خوش گمانی میں

ہم نے پایا نہیں کہیں وہ مزہ
نفس پر ہے جو حکمرانی میں

اے مرے ہم نفس مطمعنہ چل
کچھ نہیں رکھا دارِ فانی میں

صوفیہ داستاں میں رہنا ابھی
ہیں بہت موڑ اس کہانی میں

صوفیہ حامد خان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم