MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خود سے گزرے تو قیامت سے گزر جائیں گے ہم

غزل

خود سے گزرے تو قیامت سے گزر جائیں گے ہم
یعنی ہر حال کی حالت سے گزر جائیں گے ہم

عالم وسعت امکاں نظر آئے گا ہمیں
یعنی ہر دوری و قربت سے گزر جائیں گے ہم

ختم ہو جائے گی سب کشمکش حرف و عدد
یعنی ہر منفی و مثبت سے گزر جائیں گے ہم

نہ مکاں ہوگا وجود اور نہ زماں ہوگا عدم
یعنی ہر تنگی و وسعت سے گزر جائیں گے ہم

عالم ہو دل بینا کو نظر آئے گا
حسرت و وحشت و حیرت سے گزر جائیں گے ہم

میر احمد نوید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم