غزل
کیا پوچھتے ہو مجھ سے کہ کیوں تو نے رو دیا
دل نے کیا تھا جمع سو آنکھوں نے کھو دیا
دل کو اگرچہ داغ دیا یا جگر کو زخم
میں نے بجاں قبول کیا اس نے جو دیا
تھا خاندان چشم تو روشن جہاں کے بیچ
اے طفل اشک تو نے یہ گھر ہی ڈبو دیا
آگے میاں نصیب ہے سر سبز ہو نہ ہو
دل کی زمیں میں تخم محبت تو بو دیا
دل اور جان دینے میں تقصیر کچھ نہ کی
عشقؔ اس نے جو طلب کیا ناچار سو دیا
خواجہ رکن الدین عشق