MOJ E SUKHAN

چھیڑا نہ کرو میرے قلم دان کے کاغذ

چھیڑا نہ کرو میرے قلم دان کے کاغذ
ہیں اس میں پڑے بندے کے دیوان کے کاغذ

اس طِفل کو بیتوں کا مری شوق ہوا تو
محسوس ہوئے سارے گلستان کے کاغذ

ہر وصلی سرکار پہ جدول ہے طلائی
اب آپ لگے رکھنے بڑی شان کے کاغذ

اس شوخ نے کل ٹکڑے زلیخا کے کیے اور
مارے سر استاد پہ پھر تان کے کاغذ

دس بیس اکھٹے ہیں خط آس پاس تو قاصد
لے جا کہ یہ ہیں سخت ہی ارمان کے کاغذ

کیا چہرۂ انشا کا ہوا رنگ، کل اس کا
یک بار جو قاصد نے دیا آن کے کاغذ

انشاء اللہ خان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم