MOJ E SUKHAN

وہ مجھے اتنی سہولت تو نہیں دے سکتا

وہ مجھے اتنی سہولت تو نہیں دے سکتا
کم سے کم اپنی محبت تو نہیں دے سکتا

اختیارات مجھے سارے عطا کر دے گا
ہاں مگر دل پہ حکومت تو نہیں دے سکتا

چند لمحوں کے لیئے ذہن میں رکھ سکتا ھے
وادی ء دل میں سکونت تو نہیں دے سکتا

سوچ سکتی ھوں کسی اور کے بارے لیکن
دل مجھے اتنی رعایت تو نہیں دے سکتا

مییں نے روتے ھوئےیہ بات بہت سوچی ھے
وہ مجھے اشک ندامت تو نہیں دے سکتا

میں بتسم ھوں مگروہ مجھےمحفل میں کبھی
مسکرانے کی اجازت تو نہیں دے سکتا

جہاں آرا تبسم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم