MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دل اپنا آب جوئے حقائق کے پاس ہے

غزل

دل اپنا آب جوئے حقائق کے پاس ہے
محروم کیوں ازل سے مرے فن کی پیاس ہے

ہر لمحہ اپنا رنگ بدلتا ہے یہ جہاں
اب وقت کو بھی دیکھیے موقع شناس ہے

میرے یقیں کے راستے تاریک ہیں بہت
اک عزم کا چراغ مگر اپنے پاس ہے

کہنے لگے ہو مجھ کو ہی ننگ وجود کیوں
دیکھو تو سارا شہر ہی اب بے لباس ہے

جو شیشۂ یقیں کو بھی یک لخت توڑ دے
یاروں کے ہاتھ میں وہی سنگ قیاس ہے

شاید انوکھا حادثہ گزرا ہے رات کو
سورج کا چہرہ صبح سے کتنا اداس ہے

عبدالمتین جامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم