ہر کوئی ڈوبا ہوا تھا سازشوں کی جھیل میں
غزل ہر کوئی ڈوبا ہوا تھا سازشوں کی جھیل میں ذہن کی کشتی تھی اپنی حیرتوں کی جھیل میں آسماں پر اڑتے اڑتے لہر کھا کر گر پڑا آرزو کا اک پرندہ حادثوں کی جھیل میں اب ادھر آتی نہیں ہیں خواہشوں کی ہرنیاں یاد کی دلدل بہت ہے الجھنوں کی جھیل میں پھر اچھالے […]
ہر کوئی ڈوبا ہوا تھا سازشوں کی جھیل میں Read More »