MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہر کوئی ڈوبا ہوا تھا سازشوں کی جھیل میں

غزل ہر کوئی ڈوبا ہوا تھا سازشوں کی جھیل میں ذہن کی کشتی تھی اپنی حیرتوں کی جھیل میں آسماں پر اڑتے اڑتے لہر کھا کر گر پڑا آرزو کا اک پرندہ حادثوں کی جھیل میں اب ادھر آتی نہیں ہیں خواہشوں کی ہرنیاں یاد کی دلدل بہت ہے الجھنوں کی جھیل میں پھر اچھالے […]

ہر کوئی ڈوبا ہوا تھا سازشوں کی جھیل میں Read More »

آئیے دہر میں انسان کا چہرہ ڈھونڈیں

غزل آئیے دہر میں انسان کا چہرہ ڈھونڈیں بے یقینی میں بھی امکان کا چہرہ ڈھونڈیں اہل فن دامن اخلاص طلب کرتے ہیں شہر کی بھیڑ میں پہچان کا چہرہ ڈھونڈیں عدل پر اپنے سرابوں کا اثر حاوی ہے دوستوں آؤ کہ میزان کا چہرہ ڈھونڈیں بھوک سے لوگ تڑپتے ہیں گھروں میں اپنے اہل

آئیے دہر میں انسان کا چہرہ ڈھونڈیں Read More »

سنا کے غم کا ترانہ سنو گیا ہے وہ

غزل سنا کے غم کا ترانہ سنو گیا ہے وہ سروں کے اشک سے دنیا کو دھو گیا ہے وہ ہے اس کے حسن کے دریا میں ایسی طغیانی ہمارے ہوش کی بستی ڈبو گیا ہے وہ ہر اک قدم پہ ہے ٹھوکر میں زندگی اس کی اندھیرے جسم کے صحرا میں کھو گیا ہے

سنا کے غم کا ترانہ سنو گیا ہے وہ Read More »

اندھیری رات میں اک ماہتاب سا ابھرا

غزل اندھیری رات میں اک ماہتاب سا ابھرا مرا ضمیر شگفتہ گلاب سا ابھرا جگر خراش حوادث کا سلسلہ تھا عجب مری نگاہ میں اک آفتاب سا ابھرا چھپی تھی جس کی غزل میں زمانے بھر کی خوشی خود اس کی زیست کا نغمہ عذاب سا ابھرا بہت قریب سے دیکھا تھا ان کو میں

اندھیری رات میں اک ماہتاب سا ابھرا Read More »

شوق سے دل کو تہ تیغ نظر ہونے دو

غزل شوق سے دل کو تہ تیغ نظر ہونے دو جس طرف اس کی طبیعت ہے ادھر ہونے دو دل کی کیا اصل ہے پتھر بھی پگھل جائیں گے اے بتو تم مرے نالوں میں اثر ہونے دو غیر تو رہتے ہیں دن رات تمہارے دل میں کبھی اس گھر میں ہمارا بھی گزر ہونے

شوق سے دل کو تہ تیغ نظر ہونے دو Read More »

دل کو سمجھاؤ ذرا عشق میں کیا رکھا ہے

غزل دل کو سمجھاؤ ذرا عشق میں کیا رکھا ہے کس لیے آپ کو دیوانہ بنا رکھا ہے یہ تو معلوم ہے بیمار میں کیا رکھا ہے تیرے ملنے کی تمنا نے جلا رکھا ہے کون سا بادہ کش ایسا ہے کہ جس کی خاطر جام پہلے ہی سے ساقی نے اٹھا رکھا ہے اپنے

دل کو سمجھاؤ ذرا عشق میں کیا رکھا ہے Read More »

کیا یاد کر کے روؤں کہ کیسا شباب تھا

غزل کیا یاد کر کے روؤں کہ کیسا شباب تھا کچھ بھی نہ تھا ہوا تھی کہانی تھی خواب تھا اب عطر بھی ملو تو تکلف کی بو کہاں وہ دن ہوا ہوئے جو پسینہ گلاب تھا محمل نشیں جب آپ تھے لیلیٰ کے بھیس میں مجنوں کے بھیس میں کوئی خانہ خراب تھا تیرا

کیا یاد کر کے روؤں کہ کیسا شباب تھا Read More »

کون ہوتے ہیں وہ محفل سے اٹھانے والے

غزل کون ہوتے ہیں وہ محفل سے اٹھانے والے یوں تو جاتے بھی مگر اب نہیں جانے والے آہ پر سوز کی تاثیر بری ہوتی ہے خوش رہیں گے نہ غریبوں کو ستانے والے کوچۂ یار میں ہم کو تو قضا لائی ہے جان جائے گی مگر ہم نہیں جانے والے ہم کو کیا کام

کون ہوتے ہیں وہ محفل سے اٹھانے والے Read More »

تا دشت عدم آہ رسا لے گئی مجھ کو

غزل تا دشت عدم آہ رسا لے گئی مجھ کو جب خاک ہوا میں تو ہوا لے گئی مجھ کو کوسوں مئے گلگوں کی ہوا لے گئی مجھ کو یہ لال پری گھر سے اڑا لے گئی مجھ کو مدت سے نہ ملتی تھی کہیں راہ عدم کی اس شوخ کے کوچے میں قضا لے

تا دشت عدم آہ رسا لے گئی مجھ کو Read More »

ملا کر خاک میں پھر خاک کو برباد کرتے ہیں

غزل ملا کر خاک میں پھر خاک کو برباد کرتے ہیں غریبوں پر ستم کیا کیا ستم ایجاد کرتے ہیں ہزاروں دل جلا کر غیر کا دل شاد کرتے ہیں مٹا کر سیکڑوں شہر ایک گھر آباد کرتے ہیں موذن کو بھی وہ سنتے نہیں ناقوس تو کیا ہے عبث شیخ و برہمن ہر طرف

ملا کر خاک میں پھر خاک کو برباد کرتے ہیں Read More »