MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کپڑے اپنے گھر کے ہیں

کپڑے اپنے گھر کے ہیں
دھبے دنیا بھر کے ہیں

باہر کوئی چیز نہیں
سارے ڈر اندر کے ہیں

کیسے کیسے دکھ دیکھے
کیا کیا عیب ہنر کے ہیں

مسجد تو بنوا لی تھی
پتھر سب مندر کے ہیں

دیکھیں کیسا دن نکلے
بادل تو کچھ سرکے ہیں

منزل پا لینے کے بعد
جھگڑے راہگزر کے ہیں

شہروں میں اب لوگ کہاں
سب بابو دفتر کے ہیں

سید ضمیر جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم