MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

زندگی مجبور ہے معزور ہے لاچار ہے

زندگی مجبور ہے معزور ہے لاچار ہے
ہم کو أڑنے کے لیۓ بس حوصلہ درکار ہے

آج شاٸد گھر کے آنگن میں مرے أترا ہے چاند
آج رخشندہ مرےگھر کی ہر اک دیوار ہے

ہم کہاں تھے اور کہاں سے ہم کہاں تک آگٸے
اب تو کہیٸے کیا ارادہ آپ کا سرکار ہے

آپ نے غربت کدے میں آکے بخشی آبرو
دل ہمارا دیکھ کر ہی آپ کو سرشار ہے

حُسن کا جن کے ہوا چرچا بظاہر کو بہ کو
کس رسالے میں میں چھپی ہے وہ خبر درکار ہے

آج جس پرچے نے چھاپا آپ کی تصویر کو
آج سارے شیر کے ہاتھوں میں وہ اخبار ہے

پھر نہ جانے رہماٸےقوم ہیں کیونکر خموش
سرفروشی کے لیٸے ہر شخص ہی تیار

سامنے آنکھوں کے ہے نیّر صراط ِ مستقیم
دور ہے منزل نہ کوٸی راستہ دشوار ہے

نیر صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم