MOJ E SUKHAN

عجیب شہر کا منظر دکھاٸی دیتا ہے

عجیب شہر کا منظر دکھاٸی دیتا ہے
ہر ایک ہاتھ میں خنجر دکھاٸی دیتا ہے

وہ اشک جو کسی مظلوم کی ہیں پلکوں پر
مجھے وہ اشک سمندر دکھاٸی دیتا ہے

قضاٸے وقت سے سہما ڈرا ڈرا بچہ
وہ آج بھی میرے اندر دکھاٸی دیتا ہے

نگاہ کرتا ہوں جب بھی گناہ پر اپنے
ہر ایک شخص ہی بہتر دکھاٸی دیتا ہے

جسے زمانہ فلک پر تلاش کرتا ہے
مجھے وہ چاند تو چھت پر دکھاٸی دیتا ہے

ہر ایک سمت گرانی کا دور دورہ ہے
یہ مسٸلہ یہاں گھر گھر دکھاٸی دیتا ہے

ہر ایک شخص نصیحت بدست ہے یارو
ہر ایک شخص پیٸمبر دکھاٸی دیتا ہے

یہ کاروانِ وفا کس کی رہبری میں چلے
یہاں پہ ہر کوٸی رہبر دکھاٸی دیتا ہے

غبارِ کارواں نیّر جو آ رہا ہے نظر
امیرِ شہر کا لشکر دکھاٸی دیتا ہے

نیر صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم