MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خطائے عشق یہ تسلیم ہے کہ ہم سے ہوئی

خطائے عشق یہ تسلیم ہے کہ ہم سے ہوئی
یہ جرأت ہم کو مگر آپ کے کرم سے ہوئی

جہان عشق میں اہل جنوں بھی کم تو نہ تھے
ہوئی شناخت اس اقلیم کی تو ہم سے ہوئی

قتیل عشق کیا پھر گلے لگائے رہا
کہ ابتدائے محبت بھی اک ستم سے ہوئی

مجھے تو جاننے والے بھی کم ہی جانتے ہیں
مری شناخت سر ملک فن قلم سے ہوئی

جو بحر عشق میں غرقاب ہو گئے ان کی
خبر ہوئی ہے تو لہروں کے زیر و بم سے ہوئی

دلوں میں عشق کی شمعوں کی روشنی دو چند
اگر ہوئی ہے عیاں آپ ہی کے دم سے ہوئی

رشیدہ عیاں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم