MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہر ایک دور میں منظر بدلتے رہتے ہیں

ہر ایک دور میں منظر بدلتے رہتے ہیں
ہماری فکر کے محور بدلتے رہتے ہیں

حریم جاں کو منور کریں گے کیا وہ چراغ
کہ جن کے طاق برابر بدلتے رہتے ہیں

نہ حوصلہ تھا جنہیں قسمتیں بدلنے کا
وہ کم سواد فقط گھر بدلتے رہتے ہیں

طرح طرح کے ملے زخم دل تو حیرت کیا
کہ چارہ ساز بھی نشتر بدلتے رہتے ہیں

عجیب شخص مری زندگی میں آیا ہے
کہ جس کے پیار کے محور بدلتے رہتے ہیں

کبھی بقا کا جزیرہ کبھی فنا ساحل
سفینہ ایک ہے لنگر بدلتے رہتے ہیں

گریں درخت سے پتے تو کیوں خزاں کہئے
لباس ہی تو ہیں اکثر بدلتے رہتے ہیں

ہمارے دور میں ایسے پرند بھی ہیں عیاںؔ
کہ رت کے ساتھ ہی وہ پر بدلتے رہتے ہیں

رشیدہ عیاں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم