MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سوکھے ہوئے لبوں کی صدا کا اسیر ہوں

سوکھے ہوئے لبوں کی صدا کا اسیر ہوں
میں خواہشوں کے طاس کی ٹیڑھی لکیر ہوں

ہر لمحہ رُخ بدلتے مزاجوں کو کیا کہوں
میں آپ اپنے شہر میں اپنی نظیر ہوں

جسموں کی تیز آنچ سے محفوظ رکھ مجھے
اے شورشِ حیات! میں اب گوشہ گیر ہوں

دستِ طلب دراز کروں کس کے سامنے
آئے نہ جس پہ حرفِ انا وہ فقیر ہوں

ردِعمل ہے تو مرے خوابِ سکون کا
یا میں تری جبیں کی ادُھوری لکیر ہوں

احمد میں کس کے لب سے غزل پرورش کروں
غالب ہوں میں نہ شہر تغزل کا میر ہوں

سید آلِ احمد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم