MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

میں اہل دہر کی نظروں میں بے عقیدہ سہی

میں اہل دہر کی نظروں میں بے عقیدہ سہی
الٹ نقاب کہ نادیدہ آج دیدہ سہی

ہوائے کوچۂ محبوب کا ہوں دامن گیر
ہزار دامن محبوب نا رسیدہ سہی

تصورات ترے حسن سے ہیں وابستہ
تعلقات تری ذات سے کشیدہ سہی

مری بلند خیالی میں کیا کمی آئی
میں عرش زاد نہیں خاک آفریدہ سہی

مجھے نہیں نہ سہی ہو عدو کو چین نصیب
بشر کا دکھ ہے مجھے میں بشر گزیدہ سہی

جسے ملا ہے اسے مست کر گیا صہباؔ
مرے خیال کا بادہ سخن کشیدہ سہی

صہبا اختر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم