MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

برنگ شعر گرے اور بار بار گرے

برنگ شعر گرے اور بار بار گرے
ہمارے ذہن پہ کرنوں کے آبشار گرے

غموں کی راہ میں ثابت قدم ہیں دیوانے
بساط عیش پہ کتنے نشاط کار گرے

چمن کھلا تو نئی نکہتوں کے آنچل پر
شگفت گل سے ترے عکس بے شمار گرے

زمین چاند کا ٹکڑا ہے جس کی ظلمت پر
کئی اجالے ہر اک شب ستارہ وار گرے

ہمیں بھی فرصت یک خواب اس فضا میں جہاں
کرن کرن لب و رخسار کی پھوار گرے

ابھر رہا ہے جو مشرق کے ہر خرابے سے
کسے خبر کہ کہاں جا کے یہ غبار گرے

صہبا اختر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم