غزل
اندھیری رات میں اک ماہتاب سا ابھرا
مرا ضمیر شگفتہ گلاب سا ابھرا
جگر خراش حوادث کا سلسلہ تھا عجب
مری نگاہ میں اک آفتاب سا ابھرا
چھپی تھی جس کی غزل میں زمانے بھر کی خوشی
خود اس کی زیست کا نغمہ عذاب سا ابھرا
بہت قریب سے دیکھا تھا ان کو میں نے مگر
مسلسل ایک تکلف حجاب سا ابھرا
اچھالے جس پہ ملامت کے سنگ لوگوں نے
وجود اس کا مقدس کتاب سا ابھرا
غموں کی موج نظر میں تھی گرچہ چاروں طرف
مسرتوں کا جزیرہ حیات سا ابھرا
عبد المتین جامی