MOJ E SUKHAN

اندھیری رات میں اک ماہتاب سا ابھرا

غزل

اندھیری رات میں اک ماہتاب سا ابھرا
مرا ضمیر شگفتہ گلاب سا ابھرا

جگر خراش حوادث کا سلسلہ تھا عجب
مری نگاہ میں اک آفتاب سا ابھرا

چھپی تھی جس کی غزل میں زمانے بھر کی خوشی
خود اس کی زیست کا نغمہ عذاب سا ابھرا

بہت قریب سے دیکھا تھا ان کو میں نے مگر
مسلسل ایک تکلف حجاب سا ابھرا

اچھالے جس پہ ملامت کے سنگ لوگوں نے
وجود اس کا مقدس کتاب سا ابھرا

غموں کی موج نظر میں تھی گرچہ چاروں طرف
مسرتوں کا جزیرہ حیات سا ابھرا

عبد المتین جامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم