MOJ E SUKHAN

کیا یاد کر کے روؤں کہ کیسا شباب تھا

غزل

کیا یاد کر کے روؤں کہ کیسا شباب تھا
کچھ بھی نہ تھا ہوا تھی کہانی تھی خواب تھا

اب عطر بھی ملو تو تکلف کی بو کہاں
وہ دن ہوا ہوئے جو پسینہ گلاب تھا

محمل نشیں جب آپ تھے لیلیٰ کے بھیس میں
مجنوں کے بھیس میں کوئی خانہ خراب تھا

تیرا قصوروار خدا کا گناہ گار
جو کچھ کہ تھا یہی دل خانہ خراب تھا

ذرہ سمجھ کے یوں نہ ملا مجھ کو خاک میں
اے آسمان میں بھی کبھی آفتاب تھا

لالا مادھو رام جوہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم