MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

شوق سے دل کو تہ تیغ نظر ہونے دو

غزل شوق سے دل کو تہ تیغ نظر ہونے دو جس طرف اس کی طبیعت ہے ادھر ہونے دو دل کی کیا اصل ہے پتھر بھی پگھل جائیں گے اے بتو تم مرے نالوں میں اثر ہونے دو غیر تو رہتے ہیں دن رات تمہارے دل میں کبھی اس گھر میں ہمارا بھی گزر ہونے […]

شوق سے دل کو تہ تیغ نظر ہونے دو Read More »

یہ واعظ کیسی بہکی بہکی باتیں ہم سے کرتے ہیں

غزل یہ واعظ کیسی بہکی بہکی باتیں ہم سے کرتے ہیں کہیں چڑھ کر شراب عشق کے نشے اترتے ہیں خدا سمجھے یہ کیا صیاد و گلچیں ظلم کرتے ہیں گلوں کو توڑتے ہیں بلبلوں کے پر کترتے ہیں دیا دم نزع میں گو آپ نے پر روح چل نکلی کسی کے روکنے سے جانے

یہ واعظ کیسی بہکی بہکی باتیں ہم سے کرتے ہیں Read More »

روز کہتے تھے کبھی غیر کے گھر دیکھ لیا

غزل روز کہتے تھے کبھی غیر کے گھر دیکھ لیا آج تو آنکھ سے اے رشک قمر دیکھ لیا کعبۂ دل سے ملی منزل مقصود کی راہ یار کا ہم نے اسی کوچے میں گھر دیکھ لیا جانب غیر اشارہ جو ہوا جانتے ہیں ہم نے خود آنکھ سے دیکھا کہ ادھر دیکھ لیا کون

روز کہتے تھے کبھی غیر کے گھر دیکھ لیا Read More »

بت کدہ میں نہ تجھے کعبے کے اندر پایا

غزل بت کدہ میں نہ تجھے کعبے کے اندر پایا دونوں عالم سے جدا ہم نے ترا گھر پایا یوں تو دنیا میں قیامت کے پری رو دیکھے سب سے بڑھ کر تجھے اے فتنۂ محشر پایا اپنی اپنی ہے یہ تقدیر سبھی تھے سائل ایک کو شیشہ ملا ایک نے پتھر پایا بے خودی

بت کدہ میں نہ تجھے کعبے کے اندر پایا Read More »

تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں

غزل رات دن چین ہم اے رشک قمر رکھتے ہیں شام اودھ کی تو بنارس کی سحر رکھتے ہیں بھانپ ہی لیں گے اشارہ سر محفل جو کیا تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں ڈھونڈھ لیتا میں اگر اور کسی جا ہوتے کیا کہوں آپ دل غیر میں گھر رکھتے ہیں اشک قابو میں

تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں Read More »

کسی گماں کسی امکاں کا رخ نہیں کرتی

غزل کسی گماں کسی امکاں کا رخ نہیں کرتی نگاہ جلوۂ ارزاں کا رخ نہیں کرتی بسی ہوئی ہے جو آبادیوں میں بربادی جنوں کی موج بیاباں کا رخ نہیں کرتی صبا کو فصل بہاراں سے کیا ملا آخر وہ گل کھلے کہ گلستاں کا رخ نہیں کرتی حصار وقت میں اپنا وجود ہے محبوس

کسی گماں کسی امکاں کا رخ نہیں کرتی Read More »

اتنی مشکل میں بھی احباب نہ ڈالیں مجھ کو

غزل اتنی مشکل میں بھی احباب نہ ڈالیں مجھ کو کہ سنبھلنا بھی نہ چاہوں تو سنبھالیں مجھ کو غم دوراں غم جاناں غم جاں ایک ہوئے ڈر رہا ہوں یہ کہیں مار نہ ڈالیں مجھ کو منفرد میری طبیعت ہے یہ حالات کہیں روش عام کے سانچے میں نہ ڈھالیں مجھ کو میں تو

اتنی مشکل میں بھی احباب نہ ڈالیں مجھ کو Read More »

ضمیر و ذہن سے کی ہیں بغاوتیں کیا کیا

غزل ضمیر و ذہن سے کی ہیں بغاوتیں کیا کیا منافقوں سے نبھائیں رفاقتیں کیا کیا حیات عرصۂ کرب و بلا میں گزری ہے تمام عمر ہوئی ہیں شہادتیں کیا کیا کسی سے پیار کسی سے وفا کسی سے خلوص بگڑ گئی ہیں ہماری بھی عادتیں کیا کیا یہ جبر ہے کہ غرض سے غرض

ضمیر و ذہن سے کی ہیں بغاوتیں کیا کیا Read More »

مناظر شب رفتہ خیال و خواب ہوئے

غزل مناظر شب رفتہ خیال و خواب ہوئے وہ اشک تھے کہ ستارے سبھی خراب ہوئے وہ نا خدا کہ خدائی کا جن کو دعویٰ تھا سفینے ان کی حماقت سے زیر آب ہوئے ہم اہل درد زمانے کے ہاتھ کیا آتے کہ ہم تو اپنے لئے بھی نہ دستیاب ہوئے تلاش جام طرب میں

مناظر شب رفتہ خیال و خواب ہوئے Read More »

کئی پیام برائے سکون جاں تو ملے

غزل کئی پیام برائے سکون جاں تو ملے مگر تمام ہوئی اپنی داستاں تو ملے کوئی تو سمجھے مرے کرب کا لب و لہجہ یہ آرزو ہے مجھے کوئی ہم زباں تو ملے کوئی فضا کوئی موسم ہو ہم سے ہو منسوب بہار اگر نہیں ملتی ہمیں خزاں تو ملے مقام شکر ہے میرے لئے

کئی پیام برائے سکون جاں تو ملے Read More »