MOJ E SUKHAN

ہر کوئی ڈوبا ہوا تھا سازشوں کی جھیل میں

غزل

ہر کوئی ڈوبا ہوا تھا سازشوں کی جھیل میں
ذہن کی کشتی تھی اپنی حیرتوں کی جھیل میں

آسماں پر اڑتے اڑتے لہر کھا کر گر پڑا
آرزو کا اک پرندہ حادثوں کی جھیل میں

اب ادھر آتی نہیں ہیں خواہشوں کی ہرنیاں
یاد کی دلدل بہت ہے الجھنوں کی جھیل میں

پھر اچھالے کس نے آوازوں کے کنکر عرش پر
جب مکمل خامشی تھی ساعتوں کی جھیل میں

عظمتوں کی کچھ سنہری مچھلیاں پیدا ہوئیں
روشنی کے اجلے اجلے تذکروں کی جھیل میں

یاس و حسرت کا صحیفہ ہے ہماری زندگی
ہم نہاتے ہیں مقدس آیتوں کی جھیل میں

وادیٔ حسرت میں جامیؔ حادثہ ایسا ہوا
کرب کا طوفان اٹھا قہقہوں کی جھیل میں

عبدالمتین جامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم