MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بت کدہ میں نہ تجھے کعبے کے اندر پایا

غزل

بت کدہ میں نہ تجھے کعبے کے اندر پایا
دونوں عالم سے جدا ہم نے ترا گھر پایا

یوں تو دنیا میں قیامت کے پری رو دیکھے
سب سے بڑھ کر تجھے اے فتنۂ محشر پایا

اپنی اپنی ہے یہ تقدیر سبھی تھے سائل
ایک کو شیشہ ملا ایک نے پتھر پایا

بے خودی نے مجھے دیدار دکھایا تیرا
تجھ کو پایا تو مگر آپ کو کھو کر پایا

چشمۂ فیض ہے کیا ذات مرے ساقی کی
ایک قطرہ کو کہا جس نے سمندر پایا

خوش نصیب آپ بھی دنیا میں ہیں کیا اے جوہرؔ
منتظر یار کو پہلے ہی سے در پر پایا

لالا مادھو رام جووہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم