MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کئی پیام برائے سکون جاں تو ملے

غزل

کئی پیام برائے سکون جاں تو ملے
مگر تمام ہوئی اپنی داستاں تو ملے

کوئی تو سمجھے مرے کرب کا لب و لہجہ
یہ آرزو ہے مجھے کوئی ہم زباں تو ملے

کوئی فضا کوئی موسم ہو ہم سے ہو منسوب
بہار اگر نہیں ملتی ہمیں خزاں تو ملے

مقام شکر ہے میرے لئے کہ آخر کار
مرے حریفوں میں کچھ اہل خانداں تو ملے

ہوں غم نصیب تو کیا غم کہ راہ ہستی میں
تلاش حق و صداقت میں ہمرہاں تو ملے

یہی بہت ہے خزاں کو خزاں جو کہتے ہیں
کچھ ایسے پھول ہمیں زیب گلستاں تو ملے

شکستہ پا ہیں تو کیا ہم تو سر کے بل جائیں
مگر یہ بات کوئی میر کارواں تو ملے

حکایت دل درد آشنا سناؤں گا
تری نظر سے مجھے جرأت بیاں تو ملے

یہ زندگی کے بیاباں میں دھوپ کا صحرا
کہاں قیام کروں کوئی سائباں تو ملے

یہ روز و شب بھی ہمارے بدل تو سکتے ہیں
کبھی زمین سے آ کر یہ آسماں تو ملے

رہا ہوئے ہیں مگر لیثؔ یہ رہائی کیا
قفس سے چھوٹنے والوں کو آشیاں تو ملے

لیث قریشی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم