MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ واعظ کیسی بہکی بہکی باتیں ہم سے کرتے ہیں

غزل

یہ واعظ کیسی بہکی بہکی باتیں ہم سے کرتے ہیں
کہیں چڑھ کر شراب عشق کے نشے اترتے ہیں

خدا سمجھے یہ کیا صیاد و گلچیں ظلم کرتے ہیں
گلوں کو توڑتے ہیں بلبلوں کے پر کترتے ہیں

دیا دم نزع میں گو آپ نے پر روح چل نکلی
کسی کے روکنے سے جانے والے کب ٹھہرتے ہیں

ذرا رہنے دو اپنے در پہ ہم خانہ بدوشوں کو
مسافر جس جگہ آرام پاتے ہیں ٹھہرتے ہیں

نہ آ جایا کرو اغیار کی الفت جتانے میں
وہ تم پر کیوں بھلا مرنے لگے فاقوں سے مرتے ہیں

ہر اک موسم میں کشت آرزو سرسبز رہتی ہے
تردد غیر کو ہوگا یہاں تو چین کرتے ہیں

یہ جوڑا کھولنا بھی ہیچ سے خالی نہیں ان کا
الجھ جاتا ہے دل جب بال شانوں پر بکھرتے ہیں

سمجھ لینا تمہارا اے رقیبو کچھ نہیں مشکل
خدا جانے یہ کس کا خوف ہے ہم کس سے ڈرتے ہیں

تکلف کے یہ معنی ہیں سمجھ لو بے کہے دل کی
مزا کیا جب ہمیں نے یہ کہا تم سے کہ مرتے ہیں

لالا مادھو رام جوہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم