MOJ E SUKHAN

ہمیں بھی وار کرنا چاہئے تھا

ہمیں بھی وار کرنا چاہئے تھا
چلو اک بار کرنا چائے تھا

ہمیں دستور سے باہر نکل کر
کوئی انکار کرنا چاہئے تھا

محبت دور تک پھیلی ہوئی تھی
تو پھر اظہار کرنا چاہئے تھا

اگر عادت ہماری ہو رہی تھی
تمہیں اقرار کرنا چاہئے تھا

اسے تم یاد تو کرتے رہے پر
دوانہ وار کرنا چاہئے تھا

ان آنکھوں سے جو بہہ نکلا تمہیں وہ
سمندر ، پار کرنا چاہئے تھا

یہ صحنِ دل حنا ویران تھا کچھ
اسے گل بار کرنا چاہئے تھا

ڈاکٹر حنا امبرین طارق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم