ہمیں بھی وار کرنا چاہئے تھا
چلو اک بار کرنا چائے تھا
ہمیں دستور سے باہر نکل کر
کوئی انکار کرنا چاہئے تھا
محبت دور تک پھیلی ہوئی تھی
تو پھر اظہار کرنا چاہئے تھا
اگر عادت ہماری ہو رہی تھی
تمہیں اقرار کرنا چاہئے تھا
اسے تم یاد تو کرتے رہے پر
دوانہ وار کرنا چاہئے تھا
ان آنکھوں سے جو بہہ نکلا تمہیں وہ
سمندر ، پار کرنا چاہئے تھا
یہ صحنِ دل حنا ویران تھا کچھ
اسے گل بار کرنا چاہئے تھا
ڈاکٹر حنا امبرین طارق