MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دل ڈوبنے لگا ہے توانائی چاہیئے

دل ڈوبنے لگا ہے توانائی چاہیئے
کچھ وار مجھ کو زہر شناسائی چاہیئے

کل تک تھے مطمئن کہ مسافر ہیں رات کے
اب روشنی ملی ہے تو بینائی چاہے

توفیق ہے تو وسعت صحرا بھی دیکھ لیں
یہ کیا کہ اپنے گھر کی ہی انگنائی چاہیئے

ارمان تھا تمہیں کو کہ سب ساتھ میں رہیں
اب تم ہی کہہ رہے ہو کہ تنہائی چاہیئے

ہلکی سی اس جماہی سے میں مطمئن نہیں
بند قبا کا خوف کیا انگڑائی چاہئے

جو لوگ آئنہ سے بہت دور دور تھے
ان کو بھی آج بزم خود آرائی چاہیئے

شائستگان شہر میں مت کیجیے شمار
مردود خلق ہوں مجھے رسوائی چاہیئے

آشفتہ چنگیزی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم