MOJ E SUKHAN

محبتوں میں نئے طرز انتقام کی شام

محبتوں میں نئے طرز انتقام کی شام
کسی کے ساتھ گزاری کسی کے نام کی شام

ازالہ ہو گیا تاخیر سے نکلنے کا
گزر گئی ہے سفر میں مرے قیام کی شام

نہ کوئی خواب دکھایا نہ کوئی عہد کیا
بدن ادھار لیا بھی تو اس سے شام کی شام

مسافروں کے لیے دشت کیا سرائے کیا
ہمیں تو ایک سی لگتی ہے ہر مقام کی شام

مٹائے کی مری تکمیل کی سحر مجھ کو
بنارہی ہے مجھے میرے انہدام کی شام
اظہر فراغ​

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم