MOJ E SUKHAN

یار تم کیا کمال کر گئے ہو

یار تم کیا کمال کر گئے ہو
مجھ کو مجھ سے نکال کر گئے ہو

ساری یادیں ہی لے کے چلتے بنے
ہجر تک کو نڈھال کر گئے ہو

اپنی آنکھوں کے اک اشارے سے
دھڑکنیں تم بحال کر گئے ہو

اپنے ہونٹوں سے نام لے کے مرا
پھر سے مجھ کو سنبھال کر گئے ہو

کس قدر تیرگی تھی کمرے میں
کونہ کونہ اجال کر گئے ہو


اب بھی مرتے ہو مجھ پہ تم انصر
تم یہ کیسا سوال کر گئے ہوں

انصر رشید انصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم