MOJ E SUKHAN

رات کی آغوش سے مانوس اتنے ہو گئے

رات کی آغوش سے مانوس اتنے ہو گئے
روشنی میں آئے تو ہم لوگ اندھے ہو گئے

آنگنوں میں دفن ہو کر رہ گئی ہیں خواہشیں
ہاتھ پیلے ہوتے ہوتے رنگ پیلے ہو گئے

بھیڑ میں گم ہو گئے ہم اپنی انگلی چھوڑ کر
منفرد ہونے کی دھن میں اوروں جیسے ہو گئے

زندہ رہنے کے لئے کچھ بے حسی درکار تھی
سوچتے رہنے سے بھی کچھ زخم گہرے ہو گئے

اس لئے محتاط ہوں اپنی نموداری سے میں
پھل تو پھل مجھ پیڑ کے پتے بھی میٹھے ہو گئے

اظہر فراغ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم