MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ٹوٹے ہوئے لفظوں میں روانی نہیں ملتی

ٹوٹے ہوئے لفظوں میں روانی نہیں ملتی
لمحوں میں تو صدیوں کی کہانی نہیں ملتی

دل جل گیا اب اس میں دھواں تک نہیں اُٹھتا
اِس راکھ پہ تصویر پرانی نہیں ملتی

اظہار پہ تالے ہیں تو تالے ہی سمجھنا
ہر لکھی ہوئی بات زبانی نہیں ملتی

جو مانگو مقدر سے، ہمیں وہ نہیں ملتا
اس دور میں راجہ کو بھی رانی نہیں ملتی

باقی نہیں خاروں میں بھی پہلی سی چبھن اب
اور پھولوں پہ پہلی سی جوانی نہیں ملتی

سوچا تھا کسی شام سہانی کو ملیں گے
اور شام ہمیں کوئی سہانی نہیں ملتی

فاخرہ بتول

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم