ایک مدت سے اسی طور ہے رونا میرا
رنگ لاتا ہی نہیں دہر میں ہونا میرا
میرے اندر ہی رواں رہتا ہے دریائے فغاں
میر صاحب کی طرح سے نہیں رونا میرا
سوچتا ہوں تو چمکتے ہیں سوالوں کے سراب
سخت مشکل ہے اگر ہے بھی تو ہونا میرا
کچھ نہیں حسرتِ حاصل کے سوا بیداری
ایک بے گار سے بڑھ کر نہیں سونا میرا
کتنے رنگوں سے نمویاب ہے یہ رنگِ تضاد
یعنی ہونے کی ہی صورت ہے نہ ہونا میرا
خود کو پانے کی بشارت میں سمجھتا ہوں عتیق
سوچ رکھا ہے کسی شخص نے کھونا میرا
عتیق احمد جیلانی