تمہارے سوا کس کی تصویر تھی حافظے میں ہمارے
تمہیں دیکھ کر تو اضافہ ہوا مخمصے میں ہمارے
اجل کا تماشا دکھانے سے معذور ہو جائیں گے
اگر زندگی دخل دیتی رہی مشغلے میں ہمارے
بہت ہی شکایات ہیں دوستوں سے مگر خوف یہ ہے
نہ دشمن طرف دار ہوجائیں اس مرحلے میں ہمارے
ہمیں شاعری کے وسیلے سے یہ کامیابی ملی
تمہیں لوگ شامل سمجھنے لگے شعبدے میں ہمارے
بس اک راکھ رستوں میں اڑتی تھی اس سے زیادہ نہ کہنا
کبھی تم سے پوچھا بھی جائے اگر سلسلے میں ہمارے
بہت رنگ ہیں خوش بوؤں کے لبادے میں یعنی یہ سچ ہے
بہت سے دیے جل رہے ہیں ابھی راستے میں ہمارے
کسی شب کوئی آنکھ دل سے چرا کر نہ لے جائے اس کو
بہت دن سے ٹھہرا ہوا ہے جو عکس آئنے میں ہمارے
ہماری محبت میں آج ایک محفل سجائی گئی تھی
تمہارا کہیں ذکر آیا نہیں تذکرے میں ہمارے
انہیں کون جاکر بتائے دوبارہ ضرورت ہے ان کی
وہ جگنو جو رستہ دکھاتے رہے بچپنے میں ہمارے
ہمیں اس نظر نے عجیب ایک دھوکے میں رکھا ہوا ہے
کوئی سمت بھی تو سماتی نہیں زاویے میں ہمارے
ہمیں خود سے غافل سمجھ کر زمانے نے یہ کھیل کھیلا
کوئی اور تصویر جڑ دی گئی چوکھٹے میں ہمارے
ابھی دوش و فردا کی حد سے پرے ہے یہ دل کا علاقہ
ابھی وقت داخل ہوا ہی نہیں دائرے میں ہمارے
بدن کا سفینہ لیے جا رہی ہیں زمانے کی موجیں
کبھی وہ کنارا بھی آ جائے گا تجربے میں ہمارے
عتیق اس تسلی کے سائے تلے دن گزرتے ہیں اپنے
یقینا رہو گے بہت دن تلک واہمے میں ہمارے
عتیق احمد جیلانی