MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تمہارے سوا کس کی تصویر تھی حافظے میں ہمارے

تمہارے سوا کس کی تصویر تھی حافظے میں ہمارے
تمہیں دیکھ کر تو اضافہ ہوا مخمصے میں ہمارے

اجل کا تماشا دکھانے سے معذور ہو جائیں گے
اگر زندگی دخل دیتی رہی مشغلے میں ہمارے

بہت ہی شکایات ہیں دوستوں سے مگر خوف یہ ہے
نہ دشمن طرف دار ہوجائیں اس مرحلے میں ہمارے

ہمیں شاعری کے وسیلے سے یہ کامیابی ملی
تمہیں لوگ شامل سمجھنے لگے شعبدے میں ہمارے

بس اک راکھ رستوں میں اڑتی تھی اس سے زیادہ نہ کہنا
کبھی تم سے پوچھا بھی جائے اگر سلسلے میں ہمارے

بہت رنگ ہیں خوش بوؤں کے لبادے میں یعنی یہ سچ ہے
بہت سے دیے جل رہے ہیں ابھی راستے میں ہمارے

کسی شب کوئی آنکھ دل سے چرا کر نہ لے جائے اس کو
بہت دن سے ٹھہرا ہوا ہے جو عکس آئنے میں ہمارے

ہماری محبت میں آج ایک محفل سجائی گئی تھی
تمہارا کہیں ذکر آیا نہیں تذکرے میں ہمارے

انہیں کون جاکر بتائے دوبارہ ضرورت ہے ان کی
وہ جگنو جو رستہ دکھاتے رہے بچپنے میں ہمارے

ہمیں اس نظر نے عجیب ایک دھوکے میں رکھا ہوا ہے
کوئی سمت بھی تو سماتی نہیں زاویے میں ہمارے

ہمیں خود سے غافل سمجھ کر زمانے نے یہ کھیل کھیلا
کوئی اور تصویر جڑ دی گئی چوکھٹے میں ہمارے

ابھی دوش و فردا کی حد سے پرے ہے یہ دل کا علاقہ
ابھی وقت داخل ہوا ہی نہیں دائرے میں ہمارے

بدن کا سفینہ لیے جا رہی ہیں زمانے کی موجیں
کبھی وہ کنارا بھی آ جائے گا تجربے میں ہمارے

عتیق اس تسلی کے سائے تلے دن گزرتے ہیں اپنے
یقینا رہو گے بہت دن تلک واہمے میں ہمارے

عتیق احمد جیلانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم