MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

آنے والوں سے وہی یادوں کا رشتہ رہ گیا

آنے والوں سے وہی یادوں کا رشتہ رہ گیا
جا چکے مہمان میں گھر میں اکیلا رہ گیا

شہر سارا نیند کے اندھے خلا میں جا بسا
جاگتی آنکھیں لیے بس اک دریچہ رہ گیا

یہ در و دیوار جس کے نام تھے وہ جا چکا
گھر کے دروازے پہ اس کا نام لکھا رہ گیا

میری مٹی میں کچھ ایسی خواہشیں بوئی گئیں
اگنے والا ہر شجر ہی بے ثمر سا رہ گیا

وہ کتاب یسی کے جس کے حرف زندہ تا ابد
میں ورق ایسا کہ لکھتا بھی تو سادہ رہ گیا

عتیق احمد جیلانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم