MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

رات اور خواب کا ناتا نہیں بھولا جاتا

غزل

رات اور خواب کا ناتا نہیں بھولا جاتا
ساتھ میں جاگنے والا نہیں بھوا جاتا

جسم سے جان کا رشتہ تو کوئی بات نہیں
جسم سے جسم کا رشتہ نہیں بھولا جاتا

کتنی زنجیریں کھنکتی ہیں بکھرتی ہیں مگر
اس کا بدلا ہولہجہ نہیں بھولا جاتا

راستے زیرِ اثر جس کے ابھی تک ہیں تمام
روشنی کا وہ جھماکا نہیں بھولا جاتا

کتنی آنکھیں مرے چہرے پہ جمی ہیں لیکن
اس کی نظروں کا سلیقہ نہیں بھولا جاتا

غم نے ماں کی طرح آغوش میں لے رکھا ہے
پر اس آغوش کا کسنا نہیں بھول اتا

پیر چاٹے تھے مرے جس نے گلی میں اس کی
آج تک مجھ سے وہ کتا نہیں بھولا جاتا

چھین کر بھاگا تھ تصویر جو اس کی مجھ سے
ایک کم سن سا وہ لڑکا نہیں بھولا جاتا

اس کی سب عادتیں میں بھو چا ہوں لیکن
وہ مری ٹوہ میں رہنا نہیں بھولا جاتا

محسن اسرار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم