MOJ E SUKHAN

حیات کیا ہے یہی سوچتے رہے اور بس

غزل

حیات کیا ہے یہی سوچتے رہے اور بس
جہاں کھڑے تھے وہیں پر کھڑے رہے اور بس

نہ کام آئے کسی کے نہ خود کو پہچانا
بلا جواز قلندر بنے رہے اور بس

دعا قبول ہوئی اور وہ پاس آ بھی گئی
پھر ایک دوسرے کو دیکھتے رہے اور بس

اسے سلام کیا اور کوئی بات کہی
پھر اپنی بات پہ برسوں اڑے رہے اور بس

ڈھلی جو عمر تو ہاتھوں سے روزگار گیا
پھر اپنے گھر میں اکیلے پڑے رہے اور بس

خدا کو یاد ہی کرنے میں عافیت سمجھی
سو مغفرت کی دعا مانگتے رہے اور بس

کوئی بھی سمت نظر میں نہ تھی کہاں جاتے
بس ایک دائرے میں گھومتے رہے اور بس

یہ دھیان ہی نہ رہا گھر بھی جانا ہوتا ہے
تمام رات جوا کھیلتے رہے اور بس

محسن اسرار

 

 

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم