غزل
حیات کیا ہے یہی سوچتے رہے اور بس
جہاں کھڑے تھے وہیں پر کھڑے رہے اور بس
نہ کام آئے کسی کے نہ خود کو پہچانا
بلا جواز قلندر بنے رہے اور بس
دعا قبول ہوئی اور وہ پاس آ بھی گئی
پھر ایک دوسرے کو دیکھتے رہے اور بس
اسے سلام کیا اور کوئی بات کہی
پھر اپنی بات پہ برسوں اڑے رہے اور بس
ڈھلی جو عمر تو ہاتھوں سے روزگار گیا
پھر اپنے گھر میں اکیلے پڑے رہے اور بس
خدا کو یاد ہی کرنے میں عافیت سمجھی
سو مغفرت کی دعا مانگتے رہے اور بس
کوئی بھی سمت نظر میں نہ تھی کہاں جاتے
بس ایک دائرے میں گھومتے رہے اور بس
یہ دھیان ہی نہ رہا گھر بھی جانا ہوتا ہے
تمام رات جوا کھیلتے رہے اور بس
محسن اسرار