MOJ E SUKHAN

کہا اغیار کا حق میں مرے منظور مت کیجو

غزل

کہا اغیار کا حق میں مرے منظور مت کیجو
مجھے نزدیک سے اپنے کبھو تو دور مت کیجو

ہوئے سنگ جفا سے شیشۂ دل کے کئی ٹکڑے
بس اب اس سے زیادہ اور چکناچور مت کیجو

مرے مرہم گزار اس شوخ بے پروا سے یہ کہیو
کہ ظالم زخم تازہ ہے اسے ناسور مت کیجو

حقارت اپنے عاشق کی نہیں معشوق کو بھاتی
بیاںؔ سعی اپنی رسوائی میں تا مقدور مت کیجو

کہا تھا سارباں کے کان میں لیلیٰ نے آہستہ
کہ مجنوں کی خرابی کا کہیں مذکور مت کیجو

بیاں احسن اللہ خاں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم