MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

رات اس تنک مزاج سے کچھ بات بڑھ گئی

غزل

رات اس تنک مزاج سے کچھ بات بڑھ گئی
وہ روٹھ کر گیا تو غضب رات بڑھ گئی

یہ کہیو ہم نشیں مجھے کیا کیا نہ کہہ گئے
میں گھٹ گیا نہ آپ کی کچھ ذات بڑھ گئی

بوسے کے نام ہی پہ لگے کاٹنے زباں
کتنی عمل سے آگے مکافات بڑھ گئی

چشموں سے میرے شہر میں طوفان گریہ ہے
نادان جانتے ہیں کہ برسات بڑھ گئی

سمجھا تھا میں کمر ہی تلک زلف کا کمال
وہ پانو سے بھی آگے کئی ہات بڑھ گئی

اغیار سے نہیں ہے سروکار یار کو
میرے بہ رغم ان پہ عنایات بڑھ گئی

بے طوریوں سے اس کی بیاںؔ میں تو کھنچ رہا
غیروں کی اس کے ساتھ ملاقات بڑھ گئی

بیاں احسن اللہ خاں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم