MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یارو مری منزل کا پتہ اور ہی کچھ ہے

یارو مری منزل کا پتہ اور ہی کچھ ہے
یا میرے مقدر میں لکھا اور ہی کچھ ہے

ہر شخص مجھے جینے کی دیتا ہے دعائیں
لیکن مرے ہونٹوں پہ دعا اور ہی کچھ ہے

اب دل پہ ترا نام رقم کر لیا میں نے
اب دل کے دھڑکنے کی صدا اور ہی کچھ ہے

جس دن سے جلایا ہے دیا راہِ وفا میں
اس دن سے زمانے کی ہوا اور ہی کچھ ہے

پھولوں نے تو پیغام دیا ہے تجھے کچھ اور
پیغام مرا بادِ صبا اور ہی کچھ ہے

اے چارہ گرو تم کو خبر ہی نہیں اب تک
بیمارِ محبت کی دوا اور ہی کچھ ہے

بے فیض نہیں موسمِ برسات ہے لیکن
بھیگی ہوئی زلفوں کی عطا اور ہی کچھ ہے

رانا خالد محمود قیصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم