MOJ E SUKHAN

جوانی کا زمانہ یاد آیا

جوانی کا زمانہ یاد آیا
محبت کا فسانہ یاد آیا

اگر آبادیوں میں شام آئی
پرندے کو ٹھکانہ یاد آیا

گلستان پر تو بجلی گر چکی ہے
تجھے اب آشیانہ یاد آیا

اگر میں جانبِ دل دیکھتا ہوں
نگاہوں کا نشانہ یاد آیا

محبت میں کسی کی مر رہا ہوں
مگر دل کو ترانہ یاد آیا

ہمارے سامنے وہ مسکرائے
ہمیں غم کا خزانہ یاد آیا ہ

مارے عشق کا دنیا میں قیصر
فسانہ تھا فسانہ یاد آیا

رانا خالد محمود قیصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم