MOJ E SUKHAN

جوانی بام پر آئی غزل کہنے پڑی مجھ کو

جوانی بام پر آئی غزل کہنے پڑی مجھ کو
تمہاری زلف لہرائی غزل کہنے پڑی مجھ کو

ادائے حسن کا عالم نگاہوں میں سمٹ آیا
تجلی اس نے دکھلائی غزل کہنی پری مجھ کو

جنونِ شوق میں دیکھا تھا میں نے بے نقابی میں
نگاہِ حسن شرمائی غزل کہنی پڑی مجھ کو

نظارہ پیش کرنے کو فلک پر اک ہلال آیا
کسی نے لی تھی انگڑائی غزل کہنی پڑی مجھ کو

وہی تھی روشنی دن کی وہی تھی رات کی رانی
کسی نے رات مہکائی غزل کہنی پڑی مجھ کو

ابھی تک رازِ غم محفوظ تھا دل میں مگر قیصر
نظر نے بات کھلوائی غزل کہنی پڑی مجھ کو

رانا خالد محمود قیصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم