MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تجدید ہو وفا کی قرینے نہیں رہے

تجدید ہو وفا کی قرینے نہیں رہے
یادوں کے قیمتی وہ خزینے نہیں رہے

جن نرم راستوں سے تو اترا تھا دل میں دوست
سوچوں میں اب وہ مخملی زینے نہیں رہے

یہ بندگانِ خاص کا ہی صرف وصف تھا
ہو علم جن کو ہضم وہ سینے نہیں رہے

طے ہوتے تھے حیا سے محبت کے مرحلے
اب وہ محبتوں میں قرینے نہیں رہے

کیوں واپسی کے تم نے وسیلے جلا دیئے
ساحل پہ لوٹنے کو سفینے نہیں رہے

روشن تھے تیرے نقشِ قدم سے جو جانِ من
آنکھوں سے دل تلک وہی زینے نہیں رہے

کیوں شمسؔہ زندگی میں مُحرّم ٹھہر گیا
حالانکہ سوگ کے تو مہینے نہیں رہے

شمسہ نجم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم